سوز و گداز
معنی
١ - جلنے اور پگھلنے کی کیفیت؛ (مجازاً) رنج و غم کی کیفیت جس سے رقت طاری ہو، رِقّت۔ "اُس کا درد بھرا بین اُس کا سوز و گداز اس کے دل کو جھنجھوڑ ڈالتا۔" ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٦٧ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم کیفیت 'سوز' بطور معطوف کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف بڑھا کر فارسی مصدر 'گدافتن' سے اسم فاعل 'گداز' بڑھانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٧٣٩ء کو "کلیاتِ سراج" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جلنے اور پگھلنے کی کیفیت؛ (مجازاً) رنج و غم کی کیفیت جس سے رقت طاری ہو، رِقّت۔ "اُس کا درد بھرا بین اُس کا سوز و گداز اس کے دل کو جھنجھوڑ ڈالتا۔" ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٦٧ )